ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم :عنوان تقریر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمین والصلاة والسلام علی رسوله الکریم امابعد!
السلام علیکم ورحمة لله وبركاته!
صدر مجلس اورقابل قدر ساتھیو!دنیا کا اصول ہے کہ جب آپ کسی پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تواسکے دل پر حکمرانی کریں۔آج ہم حکمرانوں کو دیکھیں کہ جنہیں جمہوری طریقے سے منتخب کیا گیا ہے،جن لوگوں نے انہیں منتخب کیا ہے وہ بھی ان کی برائیاں کرتے نظرآتے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ حکمران دلوں کے حکمران نہیں ہیں۔یہ وہ نہیں کہ جن کی ایک آواز پر عوام اپنی جان تک نچھاور کردے۔یہ وہ نہیں کہ جن کے لیے ہر دل محبت سے معمور ہو۔اس کے برعکس جب میری نگاہیں آج سے 1400سال پیچھے جاتی ہیں
تو مجھ پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آج سے 1400سال پہلے ایک ایسی ہستی بھی گزری ہے کہ جس کی حکومت دلوں پر تھی۔میری مراد حضرت محمد ﷺ کی عظیم ہستی ہے۔آپ نے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی نا صرف اپنے بلکہ غیار بھی آپ پر جان فداکرنے کے لیے تیار نظرآتے تھے۔آپ نے صحابہ کی ایک ایسی جماعت تیار کی کہ جن کی محبت والفت کی مثالیں تاریخ کے افق پر آج تک بھی جگمگا رہی ہیں۔باہمی محبت ویگانگت کے ایسے ایسے سنہری واقعات ملتے ہیں کہ جن کے پڑھنے سے آج کے انسان کی عقل وخرد دنگ رہ جاتی ہے۔یہ ان تعلیمات کا نتیجہ تھا جو جناب محمدﷺ نے اپنے صحابہ کو سکھائی تھیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا (صحیح مسلم:1773) ’’مومن (دوسرے) مومن کے لیے ایسا ہے جیسے عمارت میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کو تھامے رہتی ہے (اسی طرح ایک مومن کو لازم ہے کہ دوسرے مومن کا مددگار رہے)۔‘‘
کہیں آپ نے محبت کا درس اس انداز سے دیا:’’ من اَحبّ للہِ، وابغضَ للہِ، واعطی للہِ، ومنعَ للہِ، فقدِ استکمَلَ الایمان۔ (رواہ ابو داود ٢٢٠/٣ -٤٦٨١ والحاکم ١٧٨/٢ - ٢٦٩٤) ’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے دشمنی ،اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے نہ دیا تحقیق اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‘‘ ۔۔۔
کہیں آپ کے فرمان عالی شان کچھ اس انداز میں ملتا ہے:’’ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى(صحیح مسلم : 6586) ’’مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے (سب اعضاء کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر) اس کا ساتھ دیتا ہے۔"
انہیں تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ آپس کی محبت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا،اسلام کی خاطرمحبت اوراسلام کی خاطر نفرت ان کا معیار تھا۔آئیے اس کی ایک جھلک ہم سیرت کی مایہ ناز کتاب الرحیق المختوم میں دیکھتے ہیں صاحب کتاب صفی الرحمٰن مبارک پوری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:’’ جنگ بدر کے خاتمہ کے بعد حضرت مصعب بن عمیر عبدری رضی اللہ عنہ اپنے بھائی ابو عزیز بن عمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اس کا ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعب نے اس انصاری سے کہا: "اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالباً تمہیں اچھا فدیہ دے گی"۔ اس پر ابو عزیز نے اپنے بھائی مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (ہاں) تمہارے بجائے یہ (انصاری) میرا بھائی ہے۔
اسی طرح جب وہ دشمنوں سے ٹکراتے تھے تو فولاد سے زیادہ سخت ہوتے تھے اس کی مثال بھی آپ کے سامنے الرحیق المختوم سے پیش کرتا ہوں بدر کا میدان سجا،اسلامی لشکر نےکفر کے سرداروں کے سروں کی فصل کاٹی کہ جو پک چکی تھی۔جب انہیں اچھی طرح مارمار کر شکست دے چکے 70کافر مردار ہوئے اور 70قید ہوئے جب امیہ کو قید کیے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جارہے تھے تو امیہ کہنے لگے کہ تم میں وہ شخص کون تھے کہ جس نے اپنے سینے پر شتر مرغ کا پر لگایا ہوا تھ؟حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے جواباکہا کہ وہ حمزہ رضی اللہ عنہ تھے تو امیہ کہنے لگا کہ آج اس نے ہمارے اندر تباہی مچا دی تھی۔
شاعر نے کیاخوب کہا:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
یہ صحابہ کرام کی آپس میں اسلام کے لیے محبت اوراسلام کے لیے نفرت کا ایک نمونہ تھا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ ہم تو حلقہ یاراں میں فولاد سے زیادہ سخت بننے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اپنی خواہشوں سے اپنے وجود اور روح کے اندر ہی پیار اور محبت کے چشمے خشک ہوچکے ہیں،جس کی وجہ سے کینہ و نفاق زیادہ ہوگیا ہے۔آج مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوچکے ہیں۔بھائی بھائی کا دشمن،بیٹا والدین کا دشمن،اہلِ اسلام کی تکفیر کرکے ان پر قتل کے فتوے لگا کر ناحق خون بہانا عا م ہوچکا ہے۔حالانکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔فرامین رسولﷺ میںہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے،نا اسے رسواکرتا ہے نا اس کی تحقیر کرتا ہے۔اسی طرح پیارے رسول نے فرمایا:’’کہ ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کی عزت اچھالنا،اس کے مال پر ڈاکا ڈالنا اوراس کا خون بہانا حرام ہے‘‘(ترمذی:1927،ابوداؤد:4882)آج ہمیں اپنے رویوں میں محبت اور نرم خوئی شفقت لانے کے لیے اپنے نفس کو کچلنا پڑے گا۔اس لیے آج اسی محبت کی ضرورت ہے کہ جس کے ساتھ ہم دنیا پر حکمرانی کرسکتے ہیں ،جیسا ہمارے اسلاف نے کی۔
تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فرداہو
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
Reviewed by habib ullah khan apndha
on
22:43
Rating:
Reviewed by habib ullah khan apndha
on
22:43
Rating:

No comments